زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

عشق سر پہ سوار تھا یارو

عشق سر پہ سوار تھا یارو
حسن پر میں نثار تھا یارو
ٹوٹتا ہے بدن جو اترا ہے
عشق تھا یا بخار تھا
ایک پتھر تھا زور سے لگا تھا
بھیڑ میں کوئی یار تھا یارو
جب میں اجڑا تھا پھول کھل رہے تھے
کیا وہ موسم بہار تھا یارو
دھندلا تھا جدائی کا منظر
میں زرا اشک بار تھا یارو
کیسے ملتی غریب کو جنت
اس کے سر پہ ادھار تھا یارو
مر گیا دل میں کس سے بات کروں
دل مرا راز دار تھا یارو
اس گلی میں تھے ایک سو بیمار
وہ اکیلا انار تھا یارو

زبیر قلزم