ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے
پیار تو کرنا ہے اظہار نہیں کرنا ہے
حسن کے آگے یہ دل ہار گیا ہوں لیکن
مجھ کو اس ہار کا اقرار نہیں کرنا ہے
تیر نظروں کا چلاؤ یہ اجازت ہے تمہیں
شرط ہے تیر جگر پار نہیں کرنا ہے
دل کی حسرت ہے عجب سامنے آئے اک دن
سامنے آئے تو دیدار نہیں کرنا ہے
سخت منکر ہیں محبت کے مگر سوچتے ہیں
وہ اگر پوچھے تو انکار نہیں کرنا ہے
آپ کے واسطے ہی در یہ کھلے گا جو کھلا
گھر کو گھر رکھنا ہے بازار نہیں کرنا ہے
حسرتیں پھندہ بنیں حرج نہیں ہے قلزؔم
اس کی بانہوں کو کبھی ہار نہیں کرنا ہے
زبیر قلزم