زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے

اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے
الگ ہے یہ احساں ملی زندگی ہے
یہ کیوں تم نے برباد کی زندگی
تو کیوں پوچھتا ہے تری زندگی ہے
کسی کی جو ہوتی لٹکتی تو ہوتی
یہ قسمت تری تو مری زندگی ہے
برے وقت میں ساتھ چھوڑا جو سب نے
پریشان کیوں ہے یہی زندگی ہے
بسر کر رہا ہوں میں نہ چاہتے بھی
گلے ڈھول جیسے پڑی زندگی ہے
سمجھ ہی نہ پایا کہ ناراض میں ہوں
یا ناراض مجھ سے مری زندگی ہے
اناڑی کوئی کاٹتا ہے شجر کو
میاں اپنی ایسے کٹی زندگی ہے
اجل کے مسافر بہک تم نہ جانا
یہاں ہر قدم پر کھڑی زندگی ہے
جواں عمر کا جو میں بوڑھا ہوں قلزم
میری عمر سے یہ بڑی زندگی ہے

زبیر قلزم