زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

بات بے بات غزل کہتے ہیں

بات بے بات غزل کہتے ہیں
یعنی دن رات غز کہتے ہیں
شہر میں بولتی ہے وہ اردو
اور مضافات غزل کہتے ہیں
جب بھی آئے وہ مرے گاؤں میں
کھیت باغات غزل کہتے ہیں
اس لیے شعر میرے سنتی ہے
میرے جذبات غزل کہتے ہیں
دیکھ کر اس کے لبوں کی جنبش
یہ سماوات غزل کہتے ہیں
میں کہاں کوئی سخن کہتا ہوں
یہ تو حالات غزل کہتے ہیں
جب اٹھیں اس کی نشیلی آنکھیں
سب خرابات غزل کہتے ہیں
حادثہ ہو کے گزر جاتا ہے
اس کے اثرات غزل کہتے ہیں
حسن بڑھ جاتا ہے قلزؔم اس کا
جب خیالات غزل کہتے ہیں

زبیر قلزم