بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں
کبھی نہیں جو سنائی غزل سنا جاؤں
مرے رقیب اگرچہ نہ کر سکا میں ہنوز
کہ بن کہ ہندہ کلیجہ ترا چبا جاؤں
خطوط ایسے کہ کوفہ سے آئے ہوں جیسے
میں اعتبار کروں یارو کیا چلا جاؤں
سراغ میرا محبت کبھی بھی پا نہ سکے
یہ سوچتا ہوں کہ نقش وفا مٹا جاؤں
دیا جلاؤں ترے نام کا دئیے پر پھر
تجھے میں پانے کی منت کو بھی جلا جاؤں
یہ سوچ کر تری محفل میں آج پھر آیا
بچے ہیں چار جو ارمان وہ لٹا جاؤں
میں آج کل ہوں اجل کی تلاش میں قلزم
کہ مل کے موت سے راز حیات پا جاؤں
زبیر قلزم