زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

بے خودی بے حساب کی میں نے

بے خودی بے حساب کی میں نے
اب کہ شبنم شراب کی میں نے
سارے بھنورے چمن چلے آئے
اک کلی جب گلاب کی میں نے
آپ کے رنگ اڑ رہے ہیں کیوں
زندگی خود خراب کی میں نے
وہ جو محفل سے اٹھ کے جاتے ہیں
بات کوئی جناب کی میں نے؟
ہجر ' تنہائی اور اب وحشت
خیر سے ہم رکاب کی میں نے
تشنگی تو برا ہی مان گئی
جب تمناء آب کی میں نے
کیا عجب ہے کہ خاک کے پیچھے
اپنی ہستی تراب کی میں نے
وصل کی کر کہ آرزو قلزم
زندگانی عذاب کی میں نے

زبیر قلزم