زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا
کتا بتائیں تجھے کا تماشہ ہوا
دل مچلتا روکتا میں رہا
دل سے جھگڑا مرا بے تحاشہ
پارساؤں سے حوریں ہیں سہمی ہوئی
دلبروں کا جہنم ٹھکانہ ہوا
ہیں محبت سے خالی لکریں مری
معجزہ آپ سے دل لگانا ہوا
آج تک یاد ہے ان کو تل تھا کہاں
جب کہ بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا
جو چلے آؤ تم تو ہمیں بھی لگے
لوگ کہتے ہیں موسم سہانا ہوا
ان کو جنت ملے گی خدا کی قسم
یہ محبت تو جن کا ترانہ ہوا
وقت نے چاند کی شکل تبدیل کی
غور کر چاند بھی روٹی جیسا ہوا

زبیر قلزم