زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں

چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں
ہائے کتنی کمال آنکھیں ہیں
نہ ستارے کہو نہ موتی کہو
وہ میاں بے مثال آنکھیں ہیں
ان کی معصومیت پہ مت جانا
وجہ جدل و قتال آنکھیں ہیں
میں کوئی بات بھی کروں کیسے
اک نظر سو سوال آنکھیں ہیں
ہم پہ واجب ہے رقص کرنا اب
ہم نے دیکھی دھمال آنکھیں ہیں
کیا بتاؤں میں خال و خد اس کے
اس کا سارا جمال آنکھیں ہیں
یہ طبیبوں کے بس کی بات نہیں
وہ طبیعت بحال آنکھیں ہیں
ہم نے مانا شکاری ہو قلزم
بچ کے رہنا وہ جال آنکھیں ہیں

زبیر قلزم