دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
غزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ
ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہ
پہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ
ہائے وعدہ وفا کا بھولا نہیں
سیدھا سیدھا مکر گیا ہے وہ
سن کے اچھا لگا رقیب مرے
تم سے بھی ہاتھ کر گیا ہے وہ
آئینہ جو دکھاتا پھرتا تھا
دیکھ کر خود بھی ڈر گیا ہے وہ
آپ آئے ہیں جس سے ملنے
ہجر پر صبر کر گیا ہے وہ
اپنے در کا مجھے بنا کہ فقیر
اور خود در بدر گیا ہے وہ
مر نہ جائے کہیں وہ وحشت سے
ہوش میں آج گھر گیا ہے
آپ قلزم سے ملنے آئے ہیں
آہ کل رات مر گیا ہے وہ
زبیر قلزم