زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے
پھر یہ دن جھومے رات رقص کرے
جب حسیں شخص محو رقص ہوا
یوں لگا کائنات رقص کرے
میں نے یہ بات کر کے دیکھا ہے
اس کی ہر ایک بات رقص کرے
وہ کرے وادات آنکھوں سے
اور پھر واردت رقص کرے
اس کے گھر ایک دو شجر ہیں میاں
جن کا ہر پات پات رقص کرے
وصل ایک لمحہ مل جائے
میری ساری حیات رقص کرے
ہے عجب کھیل یہ محبت بھی
جیت پھر جیت مات رقص کرے
موت آئے تو سامنے وہ ہو
چاہتا ہوں وفات رقص کرے
عشق ایسا ہو کہ وہاں اس کی
اور یہاں میری ذات رقص کرے

زبیر قلزم