دوستوں میں شمار کس کا ہے
آج کل اعتبار کس کا
کیا کہوں دشمنوں سے پوچھتے ہیں
پیٹھ پیچھے یہ وار کس کا
ساتھ تو تو کھڑا ہے پر یہ بتا
یار تو طرف دار کس کا ہے
دیکھ کر اس کو سوچتا ہوں یہ
چاند سا چہرہ پیار کس کا ہے
تم نے تو مرنا تھا بچھڑ کہ ہاں
اب مرو انتطار کس کا ہے
لوگ محشر میں تم سے پوچھیں گے
تو گنہگار یار کس کا ہے
بات دل کی بتائی کیوں دل کو
دل یہاں راز دار کس کا ہے
جانے اس بار پھول کس کو دیں
جانے موسم بہار کس کا ہے
مے کدے بھی نہیں گئے تم آج
پھر یہ قلزم خمار کس کا ہے
زبیر قلزم