زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

دشت ویران ہے ہوس مارا

دشت ویران ہے ہوس مارا
شہر گنجان ہے ہوس مارا
اہنے بچے رہیں گے ننگے پیر
کیوں کہ سلطان ہے ہوس مارا
اس محل کی ہے شان پہ لعنت
جس کا دربان ہے ہوس مارا
نام شیطان کا لگاتے ہیں
اصل انسان ہے ہوس مارا
اپنے سجدے ہیں شوق جنت کے
اپنا ایمان ہے ہوس مارا
اب اجازت نہیں کھلیں کلیاں
اب گلستان ہے ہوس مارا
دل کی باتوں میں تم نہیں آنا
دل نادان ہے ہوس مارا
تیرا احسان خاک لوں قلزم
تیرا احسان ہے ہوس مارا

زبیر قلزم