اے مری ہم نفس میں نہیں چاہتا
روبرو آئے تو میں نہیں چاہتا
ہے سنہری بدن زلفیں کالی تری
ساری دنیا سے آنکھیں نرالی تری
سرخ یاقوت ہوں ہونٹ جیسے تری
چوم کر بخت ان کو ہیں جاگے مرے
گال تیرے گلابی صنم
نین تیرے شرابی صنم
گال دیکھوں تو پاگل سا ہو جاؤں میں
نین دیکھوں تو مدہوش ہو جاؤں میں
مات کھائے تری چال سے تو غزال
ایک تل ہے کہیں ہے یہ میرا خیال
ہاتھ ہیں نرم جزبات ہیں گرم سے
پاس آتی ہو میرے مگر شرم سے
ہاتھ جتنی کمر ہے تری
ان خیالوں میں ہوتی سحر ہے مری
تم گماں کے ہی آنگن ٹہلتی رہو
یوں گمانوں گمانوں میں ملتی رہو
تم گماں ہو گماں ہی رہو
ہاں کھلا آسماں ہی رہو
دیکھو تو خوبصورت ہے کتنا گماں
مار ڈالوں بھلا کیسے اپنا گماں
اے مری ہم نفس ہے خدا کی قسم
میں نہیں چاہتا میں نہیں چاہتا
وصل کی ضد نہ کر میں نہیں چاہتا
موت اپنے گماں کی نہیں چاہتا
زبیر قلزم