ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے
آ مرے پاس ایک رستہ ہے
بنا دیتی ہے آگہی پاگل
سنا ہے تو بھی چہرے پڑھتا ہے
میں نے دریا میں جو بہا دیں تھیں
تو انہیں نیکیوں کا بدلہ ہے
اس کو پا کر کیوں بچوں سے خوش ہو
کیا وہ قسمت پڑی سے نکلا ہے
حیف لگتا نہیں ہے باتوں سے
آپ کا پہلا لفظ اقرا ہے
موت کی چاہیے پناہ مجھے
مجھ کو اس زندگی سے خطرہ ہے
اک خوشی کے لیے چلا اتنا
سانس لیتا ہوں سانس دکھتا ہے
حال خستہ مکاں بتا رہا ہے
اس مکاں کا مکین اچھا ہے
جھوٹ مکاری اک طرف قلزؔم
دیکھ ظالم حسین کتنا ہے
زبیر قلزم