زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

حسن سالار کو زبان ملی

حسن سالار کو زبان ملی
یعنی سرکار کو زبان ملی
آپ کے بولنے سے یہ بھی ہوا
میرے اشعار کو زبان ملی
پہلے اپنوں نے مجھ پہ طنز کیے
بعد اغیار کو زبان ملی
یوں کھلا حال میرا لوگوں پر
میری دیوار کو زبان ملی
تب سماعت نہیں رہی میری
جب مرے یار کو زبان ملی
زخم لفظوں سے اتنے گہرے لگے
جیسے تلوار کو زبان ملی
پھول مت توڑو بد دعا دے گا
جب کبھی خار کو زبان ملی
بیوقوفوں کا کیا بنے گا
گر سمجھ دار کو زبان ملی
میں کھینچا جاتا ہوں کسی کی طرف
کس طلب گار کو زبان ملی
خامشی سے ہوئے جدا دونوں
کیسے بازار کو زبان ملی
دو زبانیں مریں گی اب قلزؔم
ایک دستار کو زبان ملی

زبیر قلزم