زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

ہے دعا یہ سبھی کا بھلا خیر ہو

ہے دعا یہ سبھی کا بھلا خیر ہو
یا علی کہنے والو سدا خیر ہو
ایک مدت ہوئی ہے ڈسا ہی نہیں
آستیں والوں کی یا خدا خیر ہو
اس نے روتے ہوئے ہجر مجھ کو دیا
میں نے ہنستے ہوئے یہ کہا خیر ہو
آج کوئی نہیں دی وفا پہ دلیل
کیا ہوا دوستا کچھ بتا خیر ہو
ہوش والوں نے کچھ تو کیا ہے غلط
شیخ جی آئے ہیں ساقیا خیر ہو
دن جوانی کے تم پہ ہیں آئے ہوئے
ہم خرابوں سے دامن بچا خیر ہو
آج ہسنے کو دل ہے کوئی تو کہے
یار قلزم زرا مسکرا خیر ہو

زبیر قلزم