زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

جب جنوں سارے اتر جائیں گے

جب جنوں سارے اتر جائیں گے
بخت مارے یہ کدھر جائیں گے
آس کا آپ نہ دامن چھوڑیں
ایک دن ہم بھی سدھر جائیں گے
دیکھ لینا کہ یہ جینے والے
جینے کی چاہ میں مر جائیں گے
ہوں گے برباد محبت میں ہم
آپ کا کیا ہے مکر جائیں گے
اے قلم کار کہانی میں ڈال
ہم ہیں کردار جو مر جائیں گے
آپ جائیں نہ محلے دل کے
آہ نکلے گی جدھر جائیں گے
ہجر میں اور تو کیا ہو گا جناب
آپ کے بال بکھر جائیں گے
آج گڑیا نے ہے گڑیا مانگی
آج کیسے بھلا گھر جائیں گے
جاننے کی مجھے کوشش نہ کریں
میرے حالات سے ڈر جائیں گے

زبیر قلزم