زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

جب کبھی دوست مہربان ہوئے

جب کبھی دوست مہربان ہوئے
کئی خنجر لہو لہان ہوئے
اس قدر جل گیا ہوں اندر سے
میرے سب شعر ہی دخان ہوئے
وہ تھی رسمن دعا سلام مگر
میرے دل کو بڑے گمان ہوئے
اے وطن کیسی تیری قسمت ہے
تیرے غدار حکمران ہوئے
اب محبت کے نام سے کانپیں
اک محبت سے ایسے کان ہوئے
حلق میں جان اٹکی رہتی ہے
آپ جب سے ہماری جان ہوئے
جو تھے قلزم تمہارا مان غرور
کیسے غیروں کی آن بان ہوئے

زبیر قلزم