جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر
یہ میرا ضبط بنا تب کہا گیا پتھر
یہ کھیل سارا عقیدت کا ہے مرے یارو
کہیں ہے بندہ خدا تو کہیں خدا پتھر
ہوس نے وصل میں بستر پہ سلوٹیں ڈالیں
یہ عشق دور کہیں پر بنا رہا پتھر
ترے بچھڑنے پہ بھی خوب رونا تھا لیکن
جو پہلا شخص تھا مجھ کو بنا گیا پتھر
متاع جان تری طرف دوڑنا چاہوں
میں کیا کروں غم دوراں نے کر دیا پتھر
ملا ہے حال بھی پوچھا ہے میرا میں نے کہا
میں ٹھیک رب کا کرم اور تو سنا پتھر
یہ پھول لانے کی زحمت جناب کیوں کی ہے
وہ دیکھیے مرے گلدان میں سجا پتھر
زبیر قلزم