جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں
نہ کوئی بھی جو سن سکے وہ صدا ہوں
پڑھو نفل گھر جا کے شکرانے کے تم
بڑے ہی نصیبوں سے تم کو ملا ہوں
سنو تم نہ ایسے مرے پاس آو
کہ انسان کے روپ میں اک بلا ہوں
اسی واسطے ہی میں تنہا ہوں رہتا
وہ کہہ کر گیا تھا میں سب سے جدا ہوں
مسیحا مرے اب کریں تو کریں کیا
میں خود کے لئے خود بنا اک سزا ہوں
رقیبوں سے ملتا ہے وہ چھپ چھپا کر
مرے منہ پہ کہتا قسم سے ترا ہوں
تمہیں کیا پتا کہتا کس دل سے ہوں میں
رقیبوں سے جلتا نہیں نہ جلا ہوں
یقیں اس کا پھر سے میں کرنے لگا تھا
بڑے حادثے سے میں قلزم بچا ہوں
زبیر قلزم