جو یہاں حق کی بات کر جائے
بات کرتے ہی اس کا سر جائے
خاک انصاف ہو وہاں پہ جہاں
آدمی آدمی سے ڈر جائے
کتنی خوش قوم ہے وہ دیکھو زرا
حال پر جس کے آنکھ بھر جائے
دیس میں ظلم بھوک پیاس دکھے
جس طرف بھی مری نظر جائے
ایک پیغام ہے خدا کے لیے
کوئی موسی ہے طور پر جائے
ان سے جائز ہے تعزیت کرنا؟
یار جن کا ضمیر مر جائے
حق دیا جائے اس کو مرنے کا
آہ تک جس کی بے اثر جائے
زبیر قلزم