زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا

جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا
دل نجانے کہاں گرا ہے مرا
میں تمہیں بد دعائیں دیتا ہوں
جب کوئی حال پوچھتا ہے مرا
مجھ کو بوڑھا نہ جان بات یہ ہے
غم مری عمر سے بڑا ہے مرا
گھر میں پنکھا ہے اور رسی بھی
پھر بھی زندہ ہوں حوصلہ ہے مرا
خوش رہوں غم کو مار دوں یعنی
ایک غم ہی تو آسرا ہے مرا
میرا ہو جائے اب تو اس سے کہو
اب تو معیار بھی گرا ہے مرا
جانے تعبیر کیا ہو گی قلزم
خواب میں خواب اک جلا ہے مرا

زبیر قلزم