کچھ اس طرح سے میں زندہ رہا تمہارے بعد
فقط یہ سانس لیا اور جیا تمہارے بعد
میں پھر کسی کے بھی دل کا مکین بن نہ سکا
تمام عمر سفر ہی کیا تمہارے بعد
سنی نہیں مری جس جس نے آ بتاؤں تمہیں
ہے پہلا نام تمہارا خدا تمہارے بعد
کسی کے جانے پہ افسردہ اب نہیں ہوتا
بڑا ہی حوصلہ مجھ کو ملا تمہارے بعد
کبھی کسی سے لگایا کبھی کسی سے پھر
مگر کہیں بھی نہیں دل لگا تمہارے بعد
میں نام اب بھی محبت کے رکھتا ہوں لیکن
متاع جاں نہ کسی کو کہا تمہارے بعد
بہت سے لوگ میسر رہے ہمیشہ مجھے
یہ حیف میں نہ کسی کا ہوا تمہارے بعد
زبیر قلزم