زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

خود سے ہی مذاق کر گیا میں

خود سے ہی مذاق کر گیا میں
کل رات کو اپنے گھر گیا میں
کس زندگی کا حساب دوں گا
جس زندگی سے مکر گیا میں
ہر بزم کی جان تھا مگر آج
سائے سے ہی اپنے ڈر گیا میں
پھر کیا ہوگا زاہدو تمہارا
اس پل سے اگر گزر گیا میں
خوش فہمی یہ کس کو ہو رہی ہے
کس نے یہ کہا سدھر گیا میں
مقتل بھی گیا صنم کدے بھی
مایوسی ہوئی جدھر گیا میں
کوئی بھی نہ تعزیت کو آیا
میں کہتا رہا کہ مر گیا میں
میں خود کی تلاش میں ہوں قلزم
کچھ تم کو خبر کدھر گیا میں

زبیر قلزم