زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

کس کی آخر یہ انتطاری ہے

کس کی آخر یہ انتطاری ہے
رات اس سوچ میں گزاری ہے
دن کہاں رہ گیا خدا جانے
کون سی رات ہم پہ طاری ہے
کیوں ہے دل میرا لینے سے انکار
آپ کی تو دکانداری ہے
اک طمانچے سے عقل آ جاتی
وقت کا ہاتھ کتنا باری ہے
بن گیا ہے رقیب قاصد بھی
اس نے بھی اپنی جان واری ہے
پھر بھلا چین ہم کہاں پائیں
تیرے پہلو میں بے قراری ہے
ہیں جبینیں تو اپنی سجدوں میں
اور شیطان سے بھی یاری ہے
چوم کر ماتھا بیٹیا رانی کا
سارے دن کی تھکن اتاری ہے
ساٹھ سالوں کا پوچھتے ہو حساب
کیا بتائیں میاں کہ خواری ہے

زبیر قلزم