زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

کیا یہاں مسئلے سناؤں گا

کیا یہاں مسئلے سناؤں گا
چل کبھی طور پر میں آؤں گا
کیوں فقط دیکھتا رہا ہم کو
کچھ سوالات بھی اٹھاؤں گا
کوئی وعدہ نہیں کیا پھر بھی
تیرے کن کا بھرم نبھاؤں گا
تیرے ہوتے خدا بنے انساں
یہ ستم بھی تمہیں بتاؤں گا
گر نہ آئی نصیب میں جنت
تو جہنم میں بھی نہ جاؤں
پھر کسی کی یہ آرزو نہ کرے
تیرے پہلو میں دل جلاؤں گا
جان بے جان خالی دامن ہے
کوئے جاناں میں کیا لٹاؤں گا
ظرف والا رقیب لا تو سہی
تجھ سے پہلے گلے لگاؤں گا
ہاں بنا لوں گا میں حسیں منظر
حیف آنکھیں بنا نہ پاؤں گا

زبیر قلزم