مفلسی بے حساب لایا ہوں
پر میں تیور نواب لایا ہوں
اب زرا دام اچھے دینا تم
دیکھو اس بار خواب لایا ہوں
رند مفلس کو مے پلائی ہے
مے کدے سے ثواب لایا ہوں
آج محفل میں سچ کہیں گے سب
دیکھئے تو شراب لایا ہوں
چار دن فاقے کاٹنے کے بعد
جون کی میں کتاب لایا ہوں
تلخیاں ہی نہیں زمانے کی
حوصلہ بھی جناب لایا ہوں
آدمی میں برا نہیں قلزم
عادتیں بس خراب لایا ہوں
زبیر قلزم