زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

محبت پہ گزارا ہے مسلسل

محبت پہ گزارا ہے مسلسل
خسارہ ہی خسارہ ہے مسلسل
جہاں بھونچال رہتا ہے مسلسل
اسی گھر میں گزرا ہے مسلسل
مری دلجوئی بوڑھی ہو گئی ہے
وہ دلکش اور پیارا ہے مسلسل
یا محنت کا ہنر ہم کو نہ آیا
یا گردش میں ستارہ ہے مسلسل
ہمارا سانس لینا بس سمجھ لیں
مقدر میں یہ چارہ ہے مسلسل
دعا ہے ساتھ میری ماں کی جب تک
بھنور میں بھی سہارا ہے مسلسل
جفا کے ذکر پر بس چپ رہوں میں
یہی ان کا اشارہ ہے مسلسل
بھلے آؤں میسر سب کو لیکن
جو قلزم ہے تمہارا ہے مسلسل

زبیر قلزم