مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
یعنی سارے جہان کا دکھ ہے
بارشوں کی خوشی ہے ایک طرف
اپنے کچے مکان کا دکھ ہے
عشق گرد سفر رہا لیکن
جو ہوئی اس تھکان کا دکھ ہے
یہ محبت دلوں کا سودا تھا
جو دیا اس لگان کا دکھ ہے
عمر ہے پالوں دکھ محبت کا
اور مجھے خاندان کا دکھ ہے
عشق یہ تم نے کیسے مارا اسے
مرنے والے کی شان کا دکھ
تم نہیں بانٹ سکتے مرا دکھ
یار یہ ٹوٹے مان کا دکھ ہے
تیری خاطر جلایا تھا جو ہاتھ
ٹھیک ہے بس نشان کا دکھ ہے
جس میں نقصان تک نہ ہو قلزم
ہائے ایسی دکان کا دکھ ہے
زبیر قلزم