زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

مجھ سے کہتے ہو کر حسین کی بات

مجھ سے کہتے ہو کر حسین کی بات
میں کدھر اور کدھر حسین کی بات
یار میرا کوئی نہیں فرقہ
میں ادھر ہوں جدھر حسین کی بات
پھر کہاں خوف ظالمو کا جب
دل میں جائے اتر حسین کی بات
غسل آنکھوں کو دو وضو کر لو
تم نے کرنی اگر حسین کی بات
اگلی نسلوں تلک بھی پہنچے گی
کر رہی ہے سفر حسین کی بات
اس کو برسات مت سمجھ قلزؔم
ہو رہی عرش پر حسین کی بات

زبیر قلزم