زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

میں زمینی میں آسمانی ہوں

میں زمینی میں آسمانی ہوں
میں محبت میں جاودانی ہوں
دیکھ لو اب کبھی سنو گے مجھے
میں ہی کردار میں کہانی ہوں
ڈھونڈتے ہو عمارتوں میں اسے
وہ جو کہتا میں لا مکانی ہوں
زندگی مت کہو مجھے اپنی
جان جاں دیکھ رائگانی ہوں
یوں نہ برباد کر خدا کے لیے
ہوش کر میں تری جوانی ہوں
آؤ باتیں کرو کہو دل کی
چاندنی رات ہوں سہانی ہوں
پیٹھ پیچھے برا کہوں کیسے
اے مرے یار خاندانی ہوں
یہی بہتر ہے مجھ سے دور رہو
اک مصیبت ہوں نا گہانی ہوں
وصل کی بھیک مانگ کر قلزؔم
اس کے پہلو میں پانی پانی ہوں

زبیر قلزم