میری آواز صدا سے خالی
کہ ہتھیلی ہے دعا سے خالی
میری ماں مجھ کو دعا دیتی ہے
اور مرے ہاتھ دوا سے خالی
چل رہا ہے یوں نظام دنیا
جیسے دنیا ہو خدا سے خالی
کون جانے کیوں دیے سہمے ہیں
جب کہ بستی ہے ہوا سے خالی
زندگی تیری عطا تھی مالک
کی بسر تیری عطا سے خالی
وہ محبت بھی نبھائی ہم نے
جو محبت تھی وفا سے خالی
یوں نہ نگران فرشتے ہوتے
ہم اگر ہوتے خطا سے خالی
کس پہ ہم جان لٹائیں قلزم
حسن والے ہیں ادا سے خالی
زبیر قلزم