زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی

میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی
تو جو ہوتا تو حیاتی بھی درخشاں ہوتی
ہم نے جانا تو فقط اتنا ہی جانا ہے جناب
زندگی بار دگر ہوتی جو آساں ہوتی
اس لیے وصل سے انکار کیا تھا میں نے
اس کے پہلو اداسی بھی پریشاں ہوتی
آپ جو شہر منافق میں بسیرا کرتے
سب سے سرکار الگ آپ کی پہچاں ہوتی
جانے والوں صدا میں نے نہیں دی قلزؔم
اور دیتا بھی تو آواز پشیماں ہوتی

زبیر قلزم