نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو
تو عشق اپنا بڑا صوفیانہ ہے یارو
وگرنہ مجھ سا کہاں بد لحاظ ہے کوئی
متاع جاں ہے گلہ مودبانہ ہے یارو
میں جس آنکھوں پہ ایمان لایا ہوں کامل
قبیلہ اس کا بڑا کافرانہ ہے یارو
کئی طریقے ہیں غم کو چھپانے کے لیکن
کٹھن جو سب سے ہے وہ مسکرانا ہے یارو
بہت عجیب یہ مشکل مجھے ہے آن پڑی
کہ شاعری بھی یہ گھر بھی چلانا ہے یارو
وہ آ رہے ہیں عیادت کو اور مصیبت یہ
کہ ان سے حال بھی اپنا چھپانا ہے یارو
محبتیں بھی کرے اور کرے وفائیں بھی
مزاج رکھتا وہی شاعرانہ ہے یارو
زبیر قلزم