پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط
جب کے کرتے ہو سوالات غلط
مفلسی ایک ترے ہونے سے
اپنے سارے ہیں کمالات غلط
وہ سہیلی کو دعا دے رہی تھی
تیرے گھر آئے نہ بارات غلط
ہجر نے آن لیا وصل کی شب
یوں ہوئیں ہم پہ کرامات غلط
شوق سے کھائیں ہمارا حق آپ
آپ کو مل گئے درجات غلط
ان کو بس عیب نظر آتے ہیں
جن کے ہوتے ہیں خیالات غلط
رات کو نیند نہ دن کو ہے قرار
اپنے تو جیسے ہوں دن رات غلط
جیت پر اپنی جو خوش آپ نہیں
آپ نے دی ہے ہمیں مات غلط
رحمتوں سے تو نہیں گرتے چھت
میرے چھت پر ہوئی برسات غلط
زبیر قلزم