زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

پھر محبت سے دل کو پکارا گیا

پھر محبت سے دل کو پکارا گیا
کرتا بھی اور کیا دل بیچارہ گیا
بے سبب تو نہیں نکلے آنسو مرے
نام میرا کہیں تو پکارا گیا
ہجر میں آسرا غم کا ہوتا ہے نا ؟
ظلم دیکھو مرا وہ سہارا گیا
آسمانوں میں واپس اگر جانا تھا
کیوں مجھے آسماں سے اتارا گیا
اک مسلمان حج کی تیاری میں تھا
بھوک سے ایک ماں کا دلارا گیا
میرا قاتل بڑا با مروت تھا یار
قتل سے پہلے مقتل سنوارا گیا
سخت تھا بے مروت تو قلزم جناب
پھر وہ کیسے مروت میں مارا گیا

زبیر قلزم