قافیہ زندگی ہے سانس ردیف
خواہشیں قافیہ ہیں آس ردیف
تشنگی لفظوں کی بجھے کیسے
قافیہ ہونٹ اور پیاس ردیف
جب غزل لکھنے بیٹھتا ہوں میں
رہتا ہے میرے آس پاس ردیف
پڑھ تم ہوش کھو نہ دو اپنے
اس لیے رکھوں گا حواس ردیف
جس میں ظاہر ہو وصل کی امید
ہو میاں اس غزل کا یاس ردیف
ذکر آئے گا آستیں کا بھی
ایسا کرنا کہ رکھنا بانس ردیف
موج آئی نبھا دیا اس کو
ویسے تو پاس ہیں پچاس ردیف
زبیر قلزم