سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں
غم ہوا میں اچھال دیتا ہوں
مرنا لازم ہو کیسے جیتے ہیں
آؤ تم کو کمال دیتا ہوں
وہ مجھے ہجر سونپ جاتا ہے
جس کسی کو وصال دیتا ہوں
عشق آتاہے روز میرے گھر
روز گھر سے نکال دیتا ہوں
بات کوئی کرے جو گرگٹ کی
اس کو تیری مثال دیتا ہوں
بھول جاتا ہوں تلخ باتیں مگر
تلخ لہجہ سنبھال دیتا ہوں
سخت بیزار زندگی سے اور
موت آئے تو ٹال دیتا ہوں
زبیر قلزم