شوق اپنے سبھی نرالے ہیں
سانپ خود آستیں میں پالے ہیں
چار پیسے لگیں غریب کے ہاتھ
اس طرح غم ترے سنبھالے ہیں
تم مکیں تو نہیں ہو قبروں کے
کیوں زباں پر پڑے یہ تالے ہیں
ہو رہے سب عیاشیوں کی ہی نذر
میرے بچوں کے جو نوالے ہیں
تیرے دل میں جگہ کہاں پاتے
ہم وہ جنت سے جو نکالے ہیں
اس تری چپ پہ آسماں والے
بد گماں ہم زمین والے ہیں
روشنی سے مہک بھی آئے گی
خوں جلا کر کیے اجالے ہیں
زبیر قلزم