زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی

شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی
خواب جس کو نہیں ہے ملا پھر سہی
تو بھی مصروف ہے کام مجھ کو بھی ہیں
ہم جدا ہوں نہ ہوں فیصلہ پھر سہی
آ گلے سے لگا ہے گھڑی آخری
بے وفا کون ہے یہ گلہ پھر سہی
زندگی ساتھ دینے چلی آئی ہےپ
اب ضرورت نہیں میں چلا پھر سہی
موت تھی ہر طرف سب کو لے کر چلی
میں نے پوچھا جو اپنا کہا پھر سہی
ہائے مانگا صلہ جو وفا کا کہا
یہ وفا کو اٹھا جو صلہ پھر سہی
عشق ہے اک بلا اور معصوم تو
بھاگ قلزم ابھی جاں بچا پھر سہی

زبیر قلزم