سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا
دل لگائے گا کسی سے تو یا مر جائے گا
زیب تم کو نہیں دیتی یہ نبھا کی باتیں
تم کو عادت نہیں اس کی تو مکر جائے گا
تیری نسلوں سے محبت نہ کرے کوئی بھی
ان میں بھی تیری جفاؤں کا اثر جائے گا
میں نے سوچا تھا بہت اور بہت سوچا تھا
یہ نہ سوچا تھا مرے دل سے اتر جائے گا
ساقیا اور پلا بات بڑے دکھ کی ہے
دل مرا ساتھ مرے آج بھی گھر جائے گا
یار یہ قصے وفاؤں کے نہ سنا مجھ کو
دیکھ غصے میں نشہ سارا اتر جائے گا
جس کی میت پہ بٹا کھانا'مرا ہے بھوکا
اور احسان یہ مرحوم کے سر جائے گا
دیکھ نم آنکھوں کے رستے نہ اتر تو دل میں
ڈر ہے اس بات کا تو ڈوب کے مر جائے گا
دل کے ہاتھوں میں پریشان بہت ہوں قلزم
دل تو بچہ ہے سجن چھوڑ سدھر جائے گا
زبیر قلزم