تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں
کچھ رگ جان تک بھی اتر جاتے ہیں
میں کہاں جاؤں گا شام ہونے کو ہے
شام کو لوگ تو اپنے گھر جاتے ہیں
یار مرشد ہمیں کوئی تعویز دے
اب حسیں خواب آئے تو ڈر جاتے ہیں
کار الفت میں یہ بھی ہے دیکھا حضور
وہ بھلے رہتے ہیں جو مکر جاتے ہیں
یوں ہی چہرے کی رونق نہیں برقرار
زخم کھاتے ہیں اور ہم نکھر جاتے ہیں
زبیر قلزم