زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا

یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا
چاندنی شب بنا نقاب ہٹا
آ گئے ہیں سیاہ بخت لیے
روشنی سی لٹا نقاب ہٹا
میری حالت پہ ہنس رہے ہیں جو
ہوش ان کے اڑا نقاب ہٹا
اس کے پیچھے مرا ہی چہرہ ہے
مجھ کو مجھ سے ملا نقاب ہٹا
کیا کہا؟اس نے غصے سے پوچھا
میں نے پھر سے کہا نقاب ہٹا
قصہ لمبا ہے بد حواسی کا
مختصر تو بتا نقاب ہٹا
میں بھی لایا ہوں حسرت دیدار
طور پھر سے جلا نقاب ہٹا
اس کو کہتے طبیب سارے ہیں
اپنا قلزم بچا نقاب ہٹا

زبیر قلزم