زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

یہ بہانہ نہیں با خدا عید ہے

یہ بہانہ نہیں با خدا عید ہے
آگلے سے لگا دوستا عید ہے
یہ اداسی کسی روز پر ٹال دے
یہ مناسب نہیں مسکرا عید ہے
خوش ہوں میں اور کپڑے نئے پہنے ہیں
تو بھی خوش ہو دلا مان جا عید ہے
خوش رہوں عید پر کیا مرا حق نہیں
تو کہاں ہے مرے خوش نما عید ہے
بخت مارے دکھی اور ہو جائیں گے
دیکھ قلزؔم انہیں مت بتا عید ہے

زبیر قلزم