زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے

یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے
ہم برے تھے تو فقط آپ گزارا کرتے
یہ محبت جو اگر ہوتی ہمارے بس میں
ہے قسم آپ سے سرکار دوبارہ کرتے
کچھ ہمیں کرنا نہیں آتا بہت اچھا ہے
ہم کوئی کام بھی کرتے تو خسارہ کرتے
رسم دنیا بھی محبت بھی نبھا لیتے آپ
بات نہ کرتے کوئی ایک اشارہ کرتے
کوئی ہوتا جو ہمیں چھوڑ کے جاتا یارو
ہجر میں روتے اسے روز پکارہ کرتے
تیری آنکھوں کے جو قلزم کا کنارہ ہوتا
عین ممکن تھا کہ ہم تجھ سے کنارہ کرتے
بعد مرنے کے کھلا راز یہ ہم پر قلزم
کاش لوگوں کے دکھوں کا بھی مداوا کرتے

زبیر قلزم