زندگانی حسین ہے تو سہی
مان لوں گا کہیں دکھے تو سہی
میں تو جی لوں مگر یہ دل میرا
جینے کی آرزو کرے تو سہی
دیکھ لینا یہیں کہیں ملے گی
راز جنت کبھی کھلے تو سہی
کام آئے گا کار انسانی
یہ تماشائے کن رکے تو سہی
عین ممکن میں احتجاج کروں
پھر سے دنیا نئی بنے تو سہی
مجھ کو جو کہتا ہے برا وہ شخص
کبھی آئے مجھے ملے تو سہی
صبر آ جائے گا مجھے قلزؔم
جانے والا کہیں مرے تو سہی
زبیر قلزم