زندگی ایسے کھلے دل سے لٹائی میں نے
زندگی باپ کی سمجھی تھی کمائی میں نے
اس کی یادیں نہ ہوئی غرق کسی بھی صورت
مے میں بھر پور جوانی بھی ملائی میں نے
ہچکیاں روک سکا میں نہ دلاسہ دے سکا
اپنی روداد جو خود کو سنائی میں نے
صبر آنے سے نہ پہلے کی کہانی پوچھو
میں لہو رویا کبھی خاک اڑائی میں نے
راز کی بتاؤں کیوں پشیمان نہیں
راز کی بات ہمیشہ ہی چھپائی میں نے
آئنہ صاف کرتے ہوئے وہ مجھ سے روٹھے
گرد ان کے زرا چہرے سے ہٹائی میں نے
زبیر قلزم