تمہیں جب کبھی ملیں ' فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتاردو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال وخد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اتار دو
کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ
میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو' میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو
مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نے
مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا' مری دھڑکنوں کو قرار دو
تمہیں صبح کیسی لگی کہو' مری خواہشوں کے دیار کی
جو بھلی لگی تو یہیں رہو' اسے چاہتوں سے نکھار دو
وہاں گھر میں کون ہے منتظر کہ ہو فکر دیر سویر کی
بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسی چاندنی میں گزار دو
کوئی بات کرنی ہے چاند سے کسی شاخسار کی اوٹ میں
مجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اتار دو
اعتبارساجد
کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دلگرفتہ
تمہیں کتنا چاہتے ہیں !
تمہیں زندگی سے بڑھ کر
جو عزیز ہم نے جانا
سو کوئی سبب تو ہوگا
کبھی تم نے یہ بھی سوچا !
سرِ شام منتظر تھے
کہیں نیلمیں اجالے
کہیں تتلیاں لبوں کی
کہیں پھول جیسے عارض
کہیں قمقموں سی آنکھیں
یہ جو چارہ گر ہمارے
کوئی ساعتِ رفاقت
سرِ شام مانگتے تھے
انہیں کیا خبر کہ ہم نے
تمہیں سونپ دی ہیں راتیں
تمہیں دان کی ہیں آنکھیں
کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دلگرفتہ
پسِ بام و در اکیلے
کسی شمعِ سوختہ سے
یہ جو کر رہے ہیں باتیں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں !
تمہیں روز و شب کے دکھ میں
کبھی بھولنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ بھول پائیں
کہ یہ عہدِ زندگی ہے
جسے توڑنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ توڑ پائیں !
اعتبارساجد
ہر اِک رہ رو، ہر اِک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا
اَنا کے نام پر ہر شخص کو تسخِیر کیا کرنا
خبر اُس گھر کی بھی لینی ہے، جس کی چھت شکستہ ہے
فقط خوابوں میں اِک قصرِ حسیں تعمیر کیا کرنا
بہت کافی ہے، سُن لیتی ہیں دیواریں مرے دُکھڑے
سُنا کر حالِ دل ہر شخص کو دِلگیر کیا کرنا
ہمیشہ جس کو عزت دی، سر آنکھوں پر بٹھایا ہے
ذرا سی بات پر اب اُس کو بےتوقیر کیا کرنا
اِسی کٹیا میں رہنا ہے، ابھی کُھل جائیں گی آنکھیں
تو پھر لے کر تمہارے خواب کی جاگیر کیا کرنا
وہی رکھنی ہے آشفتہ سَری جو اُن کی قسمت تھی
وفا میں کام کوئی بھی خلافِ میر کیا کرنا
اعتبارساجد
ابھی حویلی بٹی نہیں تھی
مکین خوش تھے
بساطِ دل کے کسی بھی مہرے پہ
عقل غالب نہیں ہوئی تھی
رسوئی خانے میں بہن بھائیوں کی سانجھ ہنڈیا میں پک رہی تھی
یہیں کہیں پر
صحن میں رکھے پلنگ پہ لیٹا
نحیف بوڑھا
ادھورے سپنوں کو پھر سے تجسیم کر رہا تھا
کہ بجھتی آنکھوں میں ماند پڑتی کرن کرن سے
اک ایک ذرّا ادھار لیکر
جوان پیڑھی میں خواب تقسیم کر رہا تھا
حسد ، اندیشے ، طمع و لالچ
صحن کی چوکھٹ سے دور
رستے کی دُھول بن کر پڑے ہوئے تھے
کہ خاک اب تک اُڑی نہیں تھی
فشارِ خوں کی دوائیں ، سگرٹ ، نظر کا چشمہ
ابھی کسی پر گِراں نہیں تھا
ابھی یہ گھر تھا مکاں نہیں تھا
ابھی وراثت میں قہقہے ، درد ، خواب ، ہاتھوں کے لمس
آپس میں بٹ رہے تھے
کہ زندگانی کے دن کٹھن تھے
مگر سہولت سے کٹ رہے تھے
محبتوں کا
چراغ جلتا تھا طاقچے میں
مگر یہ سب ٹھیک
تب تلک تھا
نحیف سانسوں کی ڈور جب تک
کٹی نہیں تھی
ابھی حویلی بٹی نہیں تھی !
عاطف جاوید عاطف