آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے
بادۂ ناب کے ساقی مجھے پیمانے دے
کس کو معلوم کہ کل کون رہے گا زندہ
آج رندوں کو ذرا پی کے بہک جانے دے
دیکھ اے دل نہ آنچ آئے وفا پر کوئی
جو بھی آتی ہے مصیبت میرے سر آنے دے
تجھ سے بھی دست و گریباں کبھی ہو گا واعظ
وحشیٔ عشق کو رنگ اور ذرا لانے دے
اے مرے دست جنوں بڑھ کے الٹ دے پردہ
حسن شرمانے پہ مائل ہے تو شرمانے دے
اک دو جام سے کیا پیاس بجھے گی ساقی
مے پلاتا ہے تو ایسے کئی پیمانے دے
عشق ہے عشق نصیرؔ ان سے شکایت کیسی
وہ جو تڑپانے پہ آمادہ ہیں تڑپانے دے
پیر نصیرالدین
یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے
مجھے صرف اس کا ڈر ہے کہ یہ تیر چل نہ جائے
وہ اٹھی ہے آتش غم کی نفس نفس ہے سوزاں
مری روح تپ نہ اٹھے مرا جسم جل نہ جائے
مرے رازداں سے ہنس کر وہ خطاب کر رہے ہیں
کہیں تھپکیوں میں آکر کوئی راز اگل نہ جائے
تری بزم میں جو ہم ہیں تو یہاں پہ غیر کیوں ہو
یہ خلش نکل نہ جائے یہ عذاب ٹل نہ جائے
وہ اٹھا رہے ہیں چلمن وہ دکھا رہے ہیں صورت
کہیں ہوش اڑ نہ جائیں کہیں دل مچل نہ جائے
میں چراغ ناتواں ہوں کوئی دم کا میہماں ہوں
مرے سامنے سے اٹھ کر کوئی ایک پل نہ جائے
وہ نصیرؔ سن رہے ہیں مرے درد کا فسانہ
مجھے ہر گھڑی ہے دھڑکا کہیں رخ بدل نہ جائے
پیر نصیرالدین
عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے
جس کے حلقے کھل نہیں سکتے کسی تدبیر سے
اور ہی کچھ ہو شب فرقت کے کٹنے کی سبیل
دل تصور سے بہلتا ہے نہ اب تصویر سے
خط اسے مت کہہ یہ لکھا ہے مری تقدیر کا
دل کو ہے اک ربط تیری شوخیٔ تحریر سے
زندگی بھر اک سہانا خواب ہم دیکھا کئے
تیری صورت مل گئی اس خواب کی تعبیر سے
اس نگاہ ناز پر صدقے دل و جاں ہو گئے
آپ نے دیکھا نشانے دو اڑے اک تیر سے
اب تو بس دو ہچکیوں کی بات باقی رہ گئی
آپ نے پوچھا مجھے لیکن بڑی تاخیر سے
غم کی تنہائی کے سناٹے میں تنہا تھا نصیرؔ
تھا تو کھو جاتا مگر تم مل گئے تقدیر سے
پیر نصیرالدین
اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو
زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو
بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کو
قدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو
جلایا آتش گل نے چمن میں ہر تنکا
بہار پھونک گئی میرے آشیانے کو
جمال بادہ و ساغر میں ہیں رموز بہت
مری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو
قدم قدم پہ رلایا ہمیں مقدر نے
ہم ان کے شہر میں آئے تھے مسکرانے کو
نہ جانے اب وہ مجھے کیا جواب دیتے ہیں
سنا تو دی ہے انہیں داستاں سنانے کو
کہو کہ ہم سے رہیں دور حضرت واعظ
بڑے کہیں کے یہ آئے سبق پڑھانے کو
اب ایک جشن قیامت ہی اور باقی ہے
اداؤں سے تو وہ بہلا چکے زمانے کو
شب فراق نہ تم آ سکے نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو
نصیرؔ جن سے توقع تھی ساتھ دینے کی
تلے ہیں مجھ پہ وہی انگلیاں اٹھانے کو
پیر نصیرالدین