سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا یعنی اب خطرے میں گلشن کا نظام آ ہی گیا وہ نگاہ مست اٹھی گردش میں جام آ ہی گیا یعنی وقت امتیاز خاص و عام آ ہی گیا جو اٹھا کرتے تھے اظہار تقدس کے لیے ان لرزتے کانپتے ہاتھوں میں جام آ ہی گیا نور و ظلمت پر تبسم کفر و دیں پر قہقہے زندگی کو نشۂ عمر دوام آ ہی گیا پاسباں کرتے رہے سرگوشیاں ہی اور کچھ ان کی محفل سے بہ عز و احترام آ ہی گیا جانے کن نظروں سے دیکھا آج ساقی نے مجھے میں تو یہ سمجھا کہ مجھ تک دور جام آ ہی گیا اب اسی کو زندگی کہہ لیجئے یا صبح مرگ آنکھ کھولی تھی کہ سر پر وقت شام آ ہی گیا ترک مے کو مدتیں گزری ہیں لیکن محتسب ساقئ مہوش اگر آتش بہ جام آ ہی گیا ہائے یہ عالم کہ اب ترک وفا کے بعد بھی دل میں ہوک اٹھی نہ اٹھی لب پہ نام آ ہی گیا لذت رنگینئ اشعار کیا کہئے شکیلؔ کچھ نہ کچھ احباب کو لطف کلام آ ہی گیا
آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا
آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا دل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیا عشق کی قید میں اب تک تو امیدوں پہ جئے مٹ گئی آس تو زنجیر پہ رونا آیا کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا پہلے قاصد کی نظر دیکھ کے دل سہم گیا پھر تری سرخئ تحریر پہ رونا آیا دل گنوا کر بھی محبت کے مزے مل نہ سکے اپنی کھوئی ہوئی تقدیر پہ رونا آیا کتنے مسرور تھے جینے کی دعاؤں پہ شکیلؔ جب ملے رنج تو تاثیر پہ رونا آیا
روح دا پھٹ اے کھول کے دسیا نہیں جانا
روح دا پھٹ اے کھول کے دسیا نہیں جانا پاٹے بُلہاں نال تے ہسیا نہیں جانا بابل تیری پگ دی لج اے اپنی تھاں پر اک ڈنگر نال تے وسیا نہیں جانا سوچاں وچ غلامی اِسراں دھس گئی اے جندرے ٹُٹ وی گئے تے نسیا نہیں جانا اوہدے توں ودھ عیب تے میرے اندر نیں میتھوں اُس تے پتھر کسیا نہیں جانا نازک پھُلاں دے منہ زخمی کرکے وی واء تو رنگ اِنہاں دا کھسیا نہیں جانا علی احمد گجراتی